السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف خمس الخمس وأنه بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الذي يلي أمر المسلمين يصرفه في مصالحهم باب: خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کے حکمران کے اختیار میں ہے جو اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کرے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَهْلُهُ، قَالَتْ: فَمَا بَالُ الْخُمُسِ؟ فقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَطْعَمَ اللهُ نَبِيًّا طُعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ، كَانَتْ لِلَّذِي يَلِي بَعْدَهُ " فَلَمَّا وَلِيتُ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: أَنْتَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ، ثُمَّ رَجَعَتْ.ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا: ”اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے وارث ہیں یا ان کے اہل؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ ان کے اہل وارث ہیں۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”خمس کا کیا معاملہ ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اس کو فوت کر دے تو وہ کھانا (غلہ) اس کا ہوتا ہے جو اس کا والی ہے اس کے بعد۔“ پس جب میں والی بنا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسلمانوں پر لوٹا دوں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں“، پھر وہ لوٹ گئیں۔