السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: وجوب الخمس في الغنيمة والفيء، ومن قال: لا تخمس الجزية وما في معناها باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
حدیث نمبر: 12723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي فِيمَا حَدَّثَهُ ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ " أَنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَيْءِ، فَهُوَ مَا حَكَمَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَآهُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلًا مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَعَلَ اللهُ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ "، فَرَضَ الْأُعْطِيَةَ وَعَقَدَ لِأَهْلِ الْأَدْيَانِ ذِمَّةً بِمَا فَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ لَمْ يَضْرِبْ فِيهَا بِخُمُسٍ وَلَا مَغْنَمٍ " رِوَايَةُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ جو شخص پوچھے کہ مالِ فئی کو کہاں کہاں صرف کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، پھر مسلمانوں نے اسے انصاف کے موافق اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے موافق سمجھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے حق عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے“۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطاؤں کو مقرر کیا اور سب دین والوں کا ذمہ لیا جزیے کے بدلے میں، نہ ان میں خمس مقرر کیا اور نہ اسے مالِ غنیمت کی مثل سمجھا۔