حدیث نمبر: 12724
بَابُ مَصْرِفِ أَرْبَعَةِ أَخْمَاسِ الْفَيْءِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهَا كَانَتْ لَهُ خَاصَّةً دُونَ الْمُسْلِمِينَ يَضَعُهَا حَيْثُ أَرَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
حافظ ثناء اللہ

باب: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مالِ فے کے چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ ﷺ ہی کے لیے تھے، آپ ﷺ انہیں وہاں خرچ فرماتے جہاں اللہ عزوجل آپ ﷺ کو (مناسب) دکھاتا۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالْعَبَّاسُ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فِي أَمْوَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا دُونَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، فَمَا فَضَلَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُمَانِي أَنْ أُوَلِّيَكُمَاهَا، فَوَلَّيْتُكُمَاهَا عَلَى أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ وَلِيتُهَا بِهِ، فَجِئْتُمَانِي تَخْتَصِمَانِ أتُرِيدَانِ أَنْ أَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُما نِصْفًا، أتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ مَا قَضَيْتُ بِهِ بَيْنَكُمَا أَوَّلًا، فَلَا وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلِيَّ أَكْفِيكُمَاهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قُلْتُ: كَمَا قَصَصْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مُخْتَصَرًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَعْنَى قَوْلِ عُمَرَ: لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، يُرِيدُ مَا كَانَ يَكُونُ لِلْمُوجِفِينَ، وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ ⦗٤٨٤⦘.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عباس اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما دونوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے مال کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بنی نضیر کے اموال تھے، ان سے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر لوٹایا جس پر مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے گئے تھے، پس وہ مسلمانوں کے سوا صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھے اور رسول اللہ ﷺ اس سے اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کے راستے میں تیاری کے لیے اسلحہ وغیرہ کے لیے دے دیتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے اسی طرح جس طرح رسول اللہ ﷺ اس کے والی تھے، پھر میں اس کا والی بنا جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے، پھر تم دونوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں تم کو والی بنا دوں۔ پس میں نے تم دونوں کو اس کا والی بنا دیا اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو جس طرح رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر میں اس کا والی بنا۔ پس تم دونوں میرے پاس آئے تم جھگڑا کر رہے ہو، تم ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں۔ کیا تم مجھ سے فیصلے کا ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں؟ کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو کہ پہلے کے علاوہ کوئی فیصلہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہے، میں تمہارے درمیان اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا۔ اگر تم دونوں اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے واپس لوٹا دو۔ میں تم دونوں سے اسے کافی ہو جاؤں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول رسول اللہ ﷺ کے بارے میں خاص طور پر جس پر گھوڑے دوڑائے گئے ہوں یہ چار حصے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12724
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 4/ 140»