السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: وجوب الخمس في الغنيمة والفيء، ومن قال: لا تخمس الجزية وما في معناها باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
حدیث نمبر: 12722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَاهُ جَدَّ مُعَاوِيَةَ إِلَى رَجُلٍ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَخَمَّسَ مَالَهُ ".حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے والد، یعنی معاویہ کے دادا کو ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی تھی، اس نے اس کی گردن اتاری اور اس کے مال کا خمس لیا۔