السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
بَابُ بَيَانِ مَصْرِفِ الْغَنِيمَةِ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا فِيمَنْ يَرَاهُ مِمَّنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ وَمِمَّنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، حَتَّى نَزَلَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [الأنفال: 41]، فَكَانَ الْخُمُسُ لِأَهْلِ الْخُمُسِ، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والوں اور شریک نہ ہونے والوں میں سے جسے مناسب سمجھتے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان نازل ہوا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ ”اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے، رسول کے لیے، (رسول کے) قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔“ [سورة الأنفال: 41]
چنانچہ خمس (پانچواں حصہ) اہلِ خمس کے لیے ہو گیا اور اس کے (باقی) چار حصے ان لوگوں کے لیے جو جنگ میں شریک ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ؛ أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، وَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: اجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ.سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے بدر کے دن تلوار ملی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے دے دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو“، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دے دیں، کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں رکھ جہاں سے لی ہے“، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1]۔