السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف الغنيمة في الأمم الخالية إلى أن أحلها الله تعالى لمحمد صلى الله عليه وسلم ولأمته باب: پچھلی امتوں میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لیے حلال کر دیا
حدیث نمبر: 12709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طِيبًا وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ہر نبی ایک قوم خاص کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، اور میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں، اور میرے لیے زمین پاکیزہ اور مسجد بنا دی گئی ہے، آدمی جہاں نماز کا وقت پا لے وہیں نماز پڑھ لے، اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ایک مہینہ کی مسافت سے، اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔“