حدیث نمبر: 12711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ شُفِيَ صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ "، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ: يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: " أَجِبْ "، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِي، فَجِئْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ؛ فَإِنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي، فَهُوَ لَكَ "، ثُمَّ قَرَأَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس بدر کے دن ایک تلوار لے کر آیا، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے سینے کو ٹھنڈ پہنچائی ہے، پس یہ تلوار مجھے دے دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تلوار میری ہے نہ تیری۔“ میں چلا گیا اور کہہ رہا تھا: ”آج یہ اس کو ملے گی جس کا امتحان میرے جیسا نہ ہوا ہوگا۔“ پس آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، میں نے سمجھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہوگا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو نبی ﷺ نے مجھے کہا: ”تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا اور وہ نہ میری تھی نہ تیری، پس اللہ تعالیٰ نے میری کر دی اور وہ اب تیرے لیے ہے۔“ پھر آیت پڑھی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1]۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12711
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»