السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في نزح زمزم باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: " إِنَّا بِمَكَّةَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِيرًا وَلَا كَبِيرًا يَعْرِفُ حَدِيثَ الزَّنْجِيِّ الَّذِي قَالُوا إِنَّهُ وَقَعَ فِي زَمْزَمَ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: نُزِحَ زَمْزَمُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَكَذَلِكَ لَا يَنْبَغِي لِأَنَّ الْآثَارَ قَدْ جَاءَتْ فِي نَعْتِهَا أَنَّهَا لَا تُنْزَحُ وَلَا تُذَمُّ لَا أَدْرِي أَبُو قُدَامَةَ حَكَاهُ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ لِمُخَالِفِيهِ: قَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ أَفَتَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرًا وَيَتْرُكُهُ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ رِوَايَتُهُ وَتَرْوُونَ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِيرٍ يُدَافِعُ جِيفَةً، وَتَرْوُونَ عَنْهُ: الْمَاءُ لَا يَنْجُسُ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا صَحِيحًا فَهُوَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْزَحْ ⦗٤٠٣⦘ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَةِ وَلَكِنْ لِلتَّنْظِيفِ إِنْ كَانَ فَعَلَ وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ يَكُونُ الدَّمُ ظَهَرَ عَلَى الْمَاءِ حَتَّى رُئِيَ فِيهِ.ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ستر سال سے مکہ میں تھا، میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انہوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گر گیا تھا۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بے حرمتی ہو گی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابو عبید عن ابو ولید فقیہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے مخالفین سے کہا: تم خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث بیان کرتے ہو کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ کیا تمہارا خیال ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے ایک حدیث روایت کریں اور پھر خود اسے چھوڑ دیں، اگر یہ واقعی ان کی روایت ہے؟ اور تم ان سے یہ بھی روایت کرتے ہو کہ انہوں نے ایک ایسے تالاب سے وضو کیا جس میں مردار تیر رہا تھا، اور یہ بھی روایت کرتے ہو کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر ان میں سے کوئی بات صحیح ہو تو یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر انہوں نے زمزم کا پانی نکالا بھی تھا تو نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ صفائی کے لیے نکالا تھا، زمزم پینے کے لیے ہے اور ہو سکتا ہے کہ پانی پر خون ظاہر ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس میں دکھائی دینے لگا ہو۔