حدیث نمبر: 1263
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: " إِنَّا بِمَكَّةَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِيرًا وَلَا كَبِيرًا يَعْرِفُ حَدِيثَ الزَّنْجِيِّ الَّذِي قَالُوا إِنَّهُ وَقَعَ فِي زَمْزَمَ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: نُزِحَ زَمْزَمُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَكَذَلِكَ لَا يَنْبَغِي لِأَنَّ الْآثَارَ قَدْ جَاءَتْ فِي نَعْتِهَا أَنَّهَا لَا تُنْزَحُ وَلَا تُذَمُّ لَا أَدْرِي أَبُو قُدَامَةَ حَكَاهُ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ لِمُخَالِفِيهِ: قَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ أَفَتَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرًا وَيَتْرُكُهُ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ رِوَايَتُهُ وَتَرْوُونَ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِيرٍ يُدَافِعُ جِيفَةً، وَتَرْوُونَ عَنْهُ: الْمَاءُ لَا يَنْجُسُ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا صَحِيحًا فَهُوَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْزَحْ ⦗٤٠٣⦘ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَةِ وَلَكِنْ لِلتَّنْظِيفِ إِنْ كَانَ فَعَلَ وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ يَكُونُ الدَّمُ ظَهَرَ عَلَى الْمَاءِ حَتَّى رُئِيَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ستر سال سے مکہ میں تھا، میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انہوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گر گیا تھا۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بے حرمتی ہو گی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابو عبید عن ابو ولید فقیہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی مخالفت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ آپ کی کیا رائے ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت نبی ﷺ سے ثابت ہے تو پھر اس کے مقابل اس روایت کی کیا حیثیت ہے جو تم بیان کرتے ہو کہ انہوں نے (کنویں) سے وضو کیا۔ پھر یہ بھی کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر یہ حبشی والی حدیث صحیح ہو تو معنی یہ ہے کہ پانی نجاست کی وجہ سے صرف صفائی کے لیے نکالا گیا۔ زمزم کے پانی کے بارے میں ہے کہ کبھی کبھار اس پر خون کے آثار دیکھے جاتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1263
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»