السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في نزح زمزم باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ يَعْنِي فَمَاتَ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ: فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءَتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ فَأَمَرَ بِهَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِيِّ وَالْمَطَارفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ " وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَأَمَرَهُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِهِ وَهَذَا بَلَاغٌ بَلَغَهُمَا فَإِنَّهُمَا لَمْ يَلْقَيَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَسْمَعَا مِنْهُ، ⦗٤٠٢⦘ وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ مَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ نَفْسِهِ أَنَّ غُلَامًا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: لَا نَعْرِفُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا.ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مر گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں کہ وہ چشمہ ان پر غالب آ گیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم پر اس چشمے کو ختل لکڑیوں کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ جب لوگوں نے اس کو کھینچ کر خالی کر لیا اور لکڑیوں کو کھینچا تو وہ پھوٹ کر بہنے لگا۔
(ب) ابو عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کھینچ کر نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو ملی۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات اور سماع ثابت ہیں۔ (د) جابر جعفی کبھی ابوالطفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوالطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گر گیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابلِ حجت نہیں۔ (ر) ابن لہیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لہیعہ قابلِ حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرنا معلوم نہیں، زمزم ہمارے پاس ہے اور اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔