السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في نزح زمزم باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِمَاءٍ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَحَمَّتْ بِهِ فُلَانَةُ الْآنَ يَعْنِي امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ قَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی سے وضو کیا، آپ ﷺ سے کہا گیا، یعنی آپ کی بیویوں میں سے کسی نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“