کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ يَعْنِي فَمَاتَ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ: فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءَتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ فَأَمَرَ بِهَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِيِّ وَالْمَطَارفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ " وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَأَمَرَهُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِهِ وَهَذَا بَلَاغٌ بَلَغَهُمَا فَإِنَّهُمَا لَمْ يَلْقَيَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَسْمَعَا مِنْهُ، ⦗٤٠٢⦘ وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ مَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ نَفْسِهِ أَنَّ غُلَامًا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: لَا نَعْرِفُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مر گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں کہ وہ چشمہ ان پر غالب آ گیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم پر اس چشمے کو قبطی کپڑوں اور ریشمی چادروں کے ساتھ بند کر دیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے کنویں کو خالی کر لیا۔ جب انہوں نے اسے خالی کر لیا تو وہ (چشمہ) ان پر پھوٹ کر بہنے لگا۔
(ب) ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس (کنویں) کا پانی نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو (بلاغاً) پہنچی ہے۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہ ملاقات ہوئی ہے اور نہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ (د) جابر جعفی کبھی ابوالطفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوالطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گر گیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابلِ حجت نہیں۔ (ر) ابن لہیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لہیعہ قابلِ حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرنا معلوم نہیں، زمزم ہمارے پاس ہے اور اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔
(ب) ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس (کنویں) کا پانی نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو (بلاغاً) پہنچی ہے۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہ ملاقات ہوئی ہے اور نہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ (د) جابر جعفی کبھی ابوالطفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوالطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گر گیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابلِ حجت نہیں۔ (ر) ابن لہیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لہیعہ قابلِ حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرنا معلوم نہیں، زمزم ہمارے پاس ہے اور اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: " إِنَّا بِمَكَّةَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِيرًا وَلَا كَبِيرًا يَعْرِفُ حَدِيثَ الزَّنْجِيِّ الَّذِي قَالُوا إِنَّهُ وَقَعَ فِي زَمْزَمَ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: نُزِحَ زَمْزَمُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَكَذَلِكَ لَا يَنْبَغِي لِأَنَّ الْآثَارَ قَدْ جَاءَتْ فِي نَعْتِهَا أَنَّهَا لَا تُنْزَحُ وَلَا تُذَمُّ لَا أَدْرِي أَبُو قُدَامَةَ حَكَاهُ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ لِمُخَالِفِيهِ: قَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ أَفَتَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرًا وَيَتْرُكُهُ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ رِوَايَتُهُ وَتَرْوُونَ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِيرٍ يُدَافِعُ جِيفَةً، وَتَرْوُونَ عَنْهُ: الْمَاءُ لَا يَنْجُسُ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا صَحِيحًا فَهُوَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْزَحْ ⦗٤٠٣⦘ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَةِ وَلَكِنْ لِلتَّنْظِيفِ إِنْ كَانَ فَعَلَ وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ يَكُونُ الدَّمُ ظَهَرَ عَلَى الْمَاءِ حَتَّى رُئِيَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ستر سال سے مکہ میں تھا، میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انہوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گر گیا تھا۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بے حرمتی ہو گی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابو عبید عن ابو ولید فقیہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے مخالفین سے کہا: تم خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث بیان کرتے ہو کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ کیا تمہارا خیال ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے ایک حدیث روایت کریں اور پھر خود اسے چھوڑ دیں، اگر یہ واقعی ان کی روایت ہے؟ اور تم ان سے یہ بھی روایت کرتے ہو کہ انہوں نے ایک ایسے تالاب سے وضو کیا جس میں مردار تیر رہا تھا، اور یہ بھی روایت کرتے ہو کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر ان میں سے کوئی بات صحیح ہو تو یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر انہوں نے زمزم کا پانی نکالا بھی تھا تو نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ صفائی کے لیے نکالا تھا، زمزم پینے کے لیے ہے اور ہو سکتا ہے کہ پانی پر خون ظاہر ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس میں دکھائی دینے لگا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِمَاءٍ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَحَمَّتْ بِهِ فُلَانَةُ الْآنَ يَعْنِي امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ قَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی سے وضو کیا، آپ ﷺ سے کہا گیا: ابھی فلاں نے، یعنی آپ کی بیویوں میں سے ایک نے، اس سے غسل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالُوا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ أَوْ لِيَغْتَسِلَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی بیوی نے ٹپ میں غسل کیا، نبی ﷺ آئے تاکہ اس سے وضو کریں یا غسل کریں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک پانی ناپاک نہیں ہوتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مَاءِ الْحَمَّامِ، فَقَالَ: " الْمَاءُ لَا يُجْنِبُ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبید کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حمام کے پانی سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا يَنْجُسْنَ: الْإِنْسَانُ وَالْمَاءُ وَالثَّوْبُ وَالْأَرْضُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ چار چیزیں ناپاک نہیں ہوتیں: آدمی، پانی، کپڑا اور زمین۔
وَقَالَ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ عَنْ زَكَرِيَّا، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " أَرْبَعٌ لَا يَجْنُبْنَ " أَخْبَرَنَاهُ ⦗٤٠٤⦘ أَبُو حَازِمٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّوابِيقِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو یحییٰ حمانی نے اس کو بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لَيْسَتْ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ " قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَحْنُ نَرْوِي عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَوْلُنَا وَنَرْوِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا يَغْتَسِلُ فِي بِئْرٍ عَنْ جَنَابَةٍ وَنَرْوِي عَنْ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْهُ وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”پانی پر ناپاکی نہیں آتی“۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا موقف وہ ہے جو ہم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو کنویں میں غسل جنابت کرنے کا حکم دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي الْبِئْرِ فَتَمُوتُ قَالَ: " تُنْزَحُ حَتَّى تَغْلِبَهُمْ " فَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ لِأَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يَسْمَعْ عَلِيًّا فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: رَوَى ابْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي الْبِئْرِ فَمَاتَتْ فِيهَا نُزِحَ مِنْهَا دَلْوٌ أَوْ دَلْوَانِ يَعْنِي فَإِنْ تَفَسَّخَتْ يُنْزَحُ مِنْهَا خَمْسَةٌ أَوْ سَبْعَةٌ وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ..
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس چوہیا کے متعلق فرمایا جو کنویں میں گر کر مر گئی تھی کہ اسے نکالا جائے تو یہ لوگوں پر غالب آگیا تھا۔ یہ روایت مضبوط نہیں؛ کیونکہ ابو بختری نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(ب) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب چوہیا کنویں میں گر کر مر جائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔
(ب) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب چوہیا کنویں میں گر کر مر جائے تو اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے جائیں گے اور اگر پھٹ جائے تو پانچ یا سات ڈول کھینچے جائیں گے اور یہ روایت بھی منقطع ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، فِي احْتِجَاجِ مَنِ احْتَجَّ بِالْأَثَرِ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: قُلْتُ: فَيُخَالِفُ مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِ غَيْرِهِ قَالَ: لَا، قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتَ وَخَالَفْتَ مَعَ ذَلِكَ عَلِيًّا وَابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمْتَ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي الْبِئْرِ تُنْزَحُ مِنْهَا خَمْسَةُ أَوْ سَبْعَةُ أَدَلَاءٍ وَزَعَمَتْ أَنَّهَا لَا تَطْهُرُ إِلَّا بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثِينَ وَزَعَمَتْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَزَحَ زَمْزَمَ مِنْ زِنْجِيٍّ وَقَعَ فِيهَا وَأَنْتَ تَقُولُ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ أَرْبَعُونَ أَوْ سِتُّونَ دَلْوًا وَهَذَا عَنْ عَلِيٍّ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرُ ثَابِتٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سے اس شخص کی دلیل کے متعلق منقول ہے جو علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر سے دلیل لیتا ہے: میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ سے آنے والی بات کو کسی دوسرے کے قول کی خاطر چھوڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: آپ نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کے ساتھ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مخالفت بھی کی ہے۔ آپ نے گمان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کنویں میں چوہا گر جائے تو اس سے سات یا پانچ ڈول کھینچے جائیں گے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک نہیں ہو گا مگر بیس یا تیس (ڈول کھینچنے) سے اور آپ نے گمان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زنجی سے جو اس میں گر گیا تھا زمزم کا پانی نکالا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چالیس یا ساٹھ ڈول کافی ہیں۔ یہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں ہے۔