حدیث نمبر: 1261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ⦗٤٠١⦘ قَالَ: قَالَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا، فَقَالَ: " أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ، قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتْحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ..
حافظ ثناء اللہ

قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قَیِّم سے بئرِ بضاعہ کی گہرائی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: زیادہ سے زیادہ پانی ناف تک تھا۔ میں نے کہا: کم سے کم؟ انہوں نے کہا: شرمگاہ سے اوپر۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بئرِ بضاعہ کا میں نے اپنی چادر سے اندازہ لگایا، میں نے اس کو اس پر پھیلایا پھر اس کی پیمائش کی تو اس کا عرض چھ ہاتھ تھا۔ جس شخص نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا میں نے اس سے سوال کیا تو وہ مجھے اس کنویں پر لے کر گیا، میں نے پوچھا: کیا اس کی بنیادیں تبدیل کر دی گئی ہیں جس پر وہ پہلے تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے اس میں پانی دیکھا جس کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»