السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَكَفَّلَ بِنَفْسِ رَجُلٍ فَمَاتَ الرَّجُلُ، قَالَ أَحَدُهُمَا: " يَضْمَنُ الدَّرَاهِمَ "، وَقَالَ الْآخَرُ: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ، حکم اور حماد رحمہما اللہ سے نقل فرماتے ہیں، دونوں نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو کسی کا ضامن بنا تھا، دونوں میں سے ایک نے کہا: وہ درہموں کا ضامن ہے اور دوسرے نے کہا: اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔