السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشركة— شرکت کا بیان
باب: الاشتراك في الأموال والهدايا باب: اموال اور تحائف میں شراکت داری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ لَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، بِأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْمَقَالَةُ. قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، قَالَ جَابِرٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: " بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا، وَاللهِ لَأَنَا أَتْقَى مِنْهُمْ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ "، قَالَ: فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هِيَ لَنَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ "، قَالَ: وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا يَقُولُ: لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ بِحِجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْيِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملاتے ہوئے داخل ہوئے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺ کے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کر ڈالا اور ہماری بیویاں بھی ہمارے لیے حلال ہو گئیں، اس پر لوگوں میں باتیں ہونے لگیں۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کچھ لوگ کہنے لگے: ”کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے گا کہ اس کی منی اس کے ذکر سے ٹپک رہی ہو؟“ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ اس پر سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ حکم خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے۔ طاؤس اور عطاء رحمہ اللہ میں سے ایک کہتا ہے کہ انہوں نے «لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”میں حاضر ہوں اس احرام کے ساتھ جس کا رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا“ کہا اور دوسرا کہتا ہے کہ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”میں رسول اللہ ﷺ کے حج کی طرح حاضر ہوں“، نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں اور انہیں اپنی قربانی میں شریک کر لیا۔