السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11418
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبًا الَّذِي كَانَ يُقَدِّمُ الْخُصُومَ إِلَى شُرَيْحٍ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ ابْنًا لِشُرَيْحٍ إِلَى شُرَيْحٍ كَفَلَ لَهُ بِرَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَحَبَسَهُ شُرَيْحٌ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ قَالَ: " اذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللهِ بِفِرَاشٍ وَطَعَامٍ " وَكَانَ ابْنُهُ يُسَمَّى عَبْدَ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حبیب سے سنا، وہ جھگڑوں کو شریح رحمہ اللہ کی طرف لے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: ایک آدمی شریح رحمہ اللہ کے ایک بیٹے کے خلاف مقدمہ لے کر شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا، وہ (بیٹا) اس کے لیے ایک ایسے آدمی کا ضامن بنا تھا جس پر قرض تھا۔ اسے (یعنی اپنے بیٹے کو) شریح رحمہ اللہ نے روک لیا۔ جب رات ہوئی تو انہوں نے کہا: ”عبداللہ کے پاس بستر اور کھانا لے جاؤ۔“ اور ان کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا۔