السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 11361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّهُ أَبْرَأُ لِلصِّدْقِ، وَأَقَلُّ لِلْحِنَاتِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دو تاکہ وہ صلح کر لیں، یہ سچائی کے قریب اور عداوت سے دور ہے۔