کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 11358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛ اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“
حدیث نمبر: 11359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسَةً، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دُرِسَتْ وَبَادَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ بِحُجَّةٍ أَرَاهَا فَاقْتَطَعَ بِهَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ظُلْمًا أَتَى بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي ⦗١٠٩⦘ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي أَطْلُبُ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاسْتَهِمَا وَتَوَخَّيَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ چیزوں کی وجہ سے لڑائی کر رہے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں جس کا مجھے کوئی علم نہیں۔ پس میں نے جو دلیل دیکھی اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ اگر کسی نے اپنے بھائی کا مال ظلم کے ساتھ لے لیا تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کا شعلہ ہو گا۔“ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرا حق اس کے لیے ہے، آپ لے لیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور نیکی کا ارادہ کرو، پھر آپس میں اسے حل کر لینا۔“
حدیث نمبر: 11360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَزْهَرَ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّى يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ ".
حافظ ثناء اللہ
محارب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّىٰ يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ» ”مخالفین (جھگڑنے والوں) کو واپس لوٹا دیا کرو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں، اس لیے کہ فیصلہ کن فیصلہ لوگوں کے درمیان کینے (اور دشمنیاں) پیدا کر دیتا ہے۔“ [ضعیف]
حدیث نمبر: 11361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّهُ أَبْرَأُ لِلصِّدْقِ، وَأَقَلُّ لِلْحِنَاتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دو تاکہ وہ صلح کر لیں، یہ سچائی کے قریب اور عداوت سے دور ہے۔
حدیث نمبر: 11362
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمْ قَرَابَةٌ؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُوَرِّثُ بَيْنَهُمُ الشَّنَآنَ " هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دیا کرو جب ان کے درمیان قرابت ہو، بے شک فیصلے سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔