کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَتْ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کروائے؛ اس لیے کہ آخرت میں درہم و دینار نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو (مظلوم) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسَةً، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دُرِسَتْ وَبَادَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ بِحُجَّةٍ أَرَاهَا فَاقْتَطَعَ بِهَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ظُلْمًا أَتَى بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي ⦗١٠٩⦘ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي أَطْلُبُ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاسْتَهِمَا وَتَوَخَّيَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو کر مٹ چکی تھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان صرف ان معاملات میں فیصلہ کرتا ہوں جن کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا۔ پس جس کے حق میں میں کسی ایسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کر دوں جو مجھے درست لگے اور وہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ ظلم کے ساتھ لے لے تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کی سلاخ ہو گی۔“ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور ہر ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس حق کا میں مطالبہ کر رہا ہوں وہ اس کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور حق کا ارادہ کرو، پھر تم میں سے ہر ایک دوسرے کو معاف کر دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَزْهَرَ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّى يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ ".
حافظ ثناء اللہ
محارب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّىٰ يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ» ”مخالفین (جھگڑنے والوں) کو واپس لوٹا دیا کرو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں، اس لیے کہ فیصلہ کن فیصلہ لوگوں کے درمیان کینے (اور دشمنیاں) پیدا کر دیتا ہے۔“ [ضعیف]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، ثنا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّهُ أَبْرَأُ لِلصِّدْقِ، وَأَقَلُّ لِلْحِنَاتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دو تاکہ وہ صلح کر لیں، یہ سچائی کے قریب اور عداوت سے دور ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمْ قَرَابَةٌ؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُوَرِّثُ بَيْنَهُمُ الشَّنَآنَ " هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دیا کرو جب ان کے درمیان قرابت ہو، بے شک فیصلے سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایات منقطع ہیں، واللہ اعلم۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایات منقطع ہیں، واللہ اعلم۔