السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 11362
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ إِذَا كَانَ بَيْنَهُمْ قَرَابَةٌ؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُوَرِّثُ بَيْنَهُمُ الشَّنَآنَ " هَذِهِ الرِّوَايَاتُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جھگڑا کرنے والوں کو لوٹا دیا کرو جب ان کے درمیان قرابت ہو، بے شک فیصلے سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔