السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 11360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَزْهَرَ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّى يَصْطَلِحُوا؛ فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ ".حافظ ثناء اللہ
محارب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «رُدُّوا الْخُصُومَ حَتَّىٰ يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُحْدِثُ بَيْنَ الْقَوْمِ الضَّغَائِنَ» ”مخالفین (جھگڑنے والوں) کو واپس لوٹا دیا کرو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں، اس لیے کہ فیصلہ کن فیصلہ لوگوں کے درمیان کینے (اور دشمنیاں) پیدا کر دیتا ہے۔“ [ضعیف]