السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: ما جاء في التحلل، وما يحتج به من أجاز الصلح على الإنكار باب: ایک دوسرے کو معاف کروا لینے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے، اور ان دلائل کا بیان جن سے اس شخص نے حجت پکڑی جس نے صلح علی الانکار (انکار کے باوجود صلح کرنے) کو جائز قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسَةً، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَشْيَاءَ قَدْ دُرِسَتْ وَبَادَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ بِحُجَّةٍ أَرَاهَا فَاقْتَطَعَ بِهَا مِنْ مَالِ أَخِيهِ ظُلْمًا أَتَى بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي ⦗١٠٩⦘ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي أَطْلُبُ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاسْتَهِمَا وَتَوَخَّيَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ ".سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو کر مٹ چکی تھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان صرف ان معاملات میں فیصلہ کرتا ہوں جن کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا۔ پس جس کے حق میں میں کسی ایسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کر دوں جو مجھے درست لگے اور وہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ ظلم کے ساتھ لے لے تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کی سلاخ ہو گی۔“ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور ہر ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس حق کا میں مطالبہ کر رہا ہوں وہ اس کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور حق کا ارادہ کرو، پھر تم میں سے ہر ایک دوسرے کو معاف کر دے۔“