السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11356
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَيْهِ الذَّهَبُ أَوِ الْوَرِقُ خَيَّرَهُ حِينَ يَقْضِيهِ: أِيُّ الصِّنْفَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ثُمَّ يَقْضِيهِ بِصَرْفِ النَّاسِ، أَوْ يَصْرِفُ فَيَقْضِيهِ، فَإِذَا قَبِلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بَأْسًا ".حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما پر کسی آدمی کا سونا یا چاندی ہوتی تو وہ اسے اختیار دے دیتے کہ تو وہ دونوں صنفوں میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے لے لے۔ پھر وہ لوگوں سے مشورہ کر کے جس کا تقاضا کرتا تو وہ اسے دے دیتے۔ جب وہ آدمی اس صنف کو قبول کر لیتا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔