السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11357
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى ابْنِ عُمَرَ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " إِذَا خَرَجَ عَطَائِي قَضَيْتُكَ " قَالَ: فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ مِائَةَ دِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: " اذْهَبْ بِهَذِهِ الدَّنَانِيرِ إِلَى السُّوقِ، فَإِذَا قَامَتْ عَلَى ثَمَنٍ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ بِدَرَاهِمِهِ، وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَبِيعَهَا بِالدَّرَاهِمِ فَبِعْهَا وَأَعْطِهِ دَرَاهِمَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر درہم تھے، میں نے ان سے وہ لینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا: جب مجھے پیسے ملیں گے تو تم کو دے دوں گا۔ سعید کہتے ہیں: جب ان کو 100 دینار مل گئے تو میں ان کے پاس آیا۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: یہ دینار بازار لے جاؤ، جب قیمت لگ جائے تو ان سے اس کے درہم واپس کر دینا اور اگر اسے اچھا لگے کہ تو درہموں کے بدلے انہیں بیچ دے تو ایسا کر لینا اور اسے اس کے درہم دے دینا۔