کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 11351
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، شَكَّ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ: " إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا ".
حافظ ثناء اللہ
دوسری روایت میں اضافہ ہے: ”مگر ایسی صلح جو حلال کو حرام کر دے وہ ناجائز ہے۔“
حدیث نمبر: 11352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا ابْنُ زَبَالَةَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى رِوَايَتِهِ؛ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَرِوَايَةُ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَى مَا قَبْلَهَا قَوِيَتَا.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔“
حدیث نمبر: 11353
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَذَكَرَهُ وَفِيهِ: " وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا ".
حافظ ثناء اللہ
ادریس الاودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن بردہ رحمہ اللہ نے ایک کتاب نکالی اور کہا: یہ وہ کتاب ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجی تھی، اس میں لکھا تھا کہ: ”لوگوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 11354
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْمُخَارَجَةِ فِي الْمِيرَاثِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میراث سے خارج ہونے میں حرج نہیں خیال کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11355
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " صُولِحَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ نَصِيبِهَا رُبُعَ الثَّمَنِ عَلَى ثَمَانِينَ أَلْفًا " وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ عَارِفَةً بِمِقْدَارِ نَصِيبِهَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی بیوی کی اس کے حصے سے صلح کروائی گئی اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ اپنے حصے کو جانتی تھیں۔
(ب) شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس عورت کی آٹھویں حصے پر صلح کروائی گئی اور اسے علم نہ ہو کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے تو یہ شک و شبہ والا معاملہ ہے۔
(ب) شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس عورت کی آٹھویں حصے پر صلح کروائی گئی اور اسے علم نہ ہو کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے تو یہ شک و شبہ والا معاملہ ہے۔
حدیث نمبر: 11356
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَيْهِ الذَّهَبُ أَوِ الْوَرِقُ خَيَّرَهُ حِينَ يَقْضِيهِ: أِيُّ الصِّنْفَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ثُمَّ يَقْضِيهِ بِصَرْفِ النَّاسِ، أَوْ يَصْرِفُ فَيَقْضِيهِ، فَإِذَا قَبِلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَرَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما پر کسی آدمی کا سونا یا چاندی ہوتی تو وہ اسے اختیار دے دیتے کہ تو وہ دونوں صنفوں میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے لے لے۔ پھر وہ لوگوں سے مشورہ کر کے جس کا تقاضا کرتا تو وہ اسے دے دیتے۔ جب وہ آدمی اس صنف کو قبول کر لیتا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 11357
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى ابْنِ عُمَرَ دَرَاهِمُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: " إِذَا خَرَجَ عَطَائِي قَضَيْتُكَ " قَالَ: فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ مِائَةَ دِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: " اذْهَبْ بِهَذِهِ الدَّنَانِيرِ إِلَى السُّوقِ، فَإِذَا قَامَتْ عَلَى ثَمَنٍ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ بِدَرَاهِمِهِ، وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَبِيعَهَا بِالدَّرَاهِمِ فَبِعْهَا وَأَعْطِهِ دَرَاهِمَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر درہم تھے، میں نے ان سے وہ لینے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا: جب مجھے پیسے ملیں گے تو تم کو دے دوں گا۔ سعید کہتے ہیں: جب ان کو 100 دینار مل گئے تو میں ان کے پاس آیا۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: یہ دینار بازار لے جاؤ، جب قیمت لگ جائے تو ان سے اس کے درہم واپس کر دینا اور اگر اسے اچھا لگے کہ تو درہموں کے بدلے انہیں بیچ دے تو ایسا کر لینا اور اسے اس کے درہم دے دینا۔