السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11355
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " صُولِحَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ نَصِيبِهَا رُبُعَ الثَّمَنِ عَلَى ثَمَانِينَ أَلْفًا " وَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ عَارِفَةً بِمِقْدَارِ نَصِيبِهَا.حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی بیوی کی اس کے حصے سے صلح کروائی گئی اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ اپنے حصے کو جانتی تھیں۔
(ب) شریح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس عورت کی آٹھویں حصے پر صلح کروائی گئی اور اسے علم نہ ہو کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے تو یہ شک و شبہ والا معاملہ ہے۔