السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكَّةُ مُنَاخٌ، لَا يُبَاعُ رِبَاعُهَا، وَلَا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا " إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ضَعِيفٌ وَأَبُوهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَرُوِيَ عَنْهُ هَكَذَا، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مَرْفُوعًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ اونٹوں کی اقامت گاہ ہے، لہٰذا اس کی چاردیواری نہ بیچی جائے اور نہ یہاں کے گھر اجرت پر دیے جائیں۔“
اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہے اور اس کا والد قوی نہیں، اور اس پر اختلاف کیا گیا ہے: اس سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے، اور اس سے، اس کے والد سے، مجاہد سے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس کے کچھ معنی کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔