کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11178
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ دَارٍ أَوْ دُورٍ؟ " قَالَ: وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ؛ لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَمْرٍو، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَصْبَغَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام کریں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟“ کہتے ہیں کہ عقیل اور طالب ابوطالب کے وارث بنے تھے اور حضرت جعفر اور علی رضی اللہ عنہما وارث نہیں بنے تھے کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے اور طالب اور عقیل دونوں کافر تھے، اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”مومن کافر کا وارث نہیں بنتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11178
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1588، و مسلم 1351»
حدیث نمبر: 11179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قِصَّةِ فَتْحِ مَكَّةَ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! قریش کے سردار ہلاک ہو گئے ہیں۔ آج کے بعد کوئی قریشی نہیں رہے گا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امن ملے گا اور جو شخص اپنا اسلحہ پھینک دے، اسے بھی امن ملے گا اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ بھی محفوظ رہے گا۔“ راوی کہتا ہے کہ لوگ ابوسفیان کے گھر داخل ہو گئے اور انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11179
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1780»
حدیث نمبر: 11180
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ⦗٥٧⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارٍ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخَ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: " اشْتَرَى نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ دَارَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بِأَرْبَعِمِائَةٍ، دَارُ السِّجْنِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنْ رَضِيَهَا وَإِنْ كَرِهَهَا، أَعْطَى نَافِعٌ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ أَرْبَعَمِائَةٍ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَهُوَ سِجْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ بِمَكَّةَ " وَيُذْكَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ كِرَاءِ بُيُوتِ مَكَّةَ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، الْكِرَاءُ مِثْلُ الشِّرَاءِ، قَدِ اشْتَرَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ دَارًا بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن فروخ فرماتے ہیں کہ نافع بن حارث رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے ایک قید خانہ خریدا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دینے کے لیے۔ اگر وہ اسے پسند کریں گے تو نافع رضی اللہ عنہ، صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو چار سو دیں گے۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ مکان آج بھی جیل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا مکہ کے گھروں کو کرائے پر دیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ خریدنے میں کوئی حرج نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے چار ہزار درہم کا ایک گھر خریدا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11180
حدیث نمبر: 11181
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ " يَعْتَدُّ بِمَكَّةَ مَا لَا يَعْتَدُّ بِهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، أَوْصَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِحُجْرَتِهَا، وَاشْتَرَى حُجْرَةَ سَوْدَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جس طرح مکہ میں گھر تیار کرتے تھے، اس طرح کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنے کمرے کی وصیت کی تھی اور انہوں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ خریدا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11181
حدیث نمبر: 11182
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: بَاعَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ دَارَ النَّدْوَةِ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: " يَا أَبَا خَالِدٍ، بِعْتَ مَأْثُرَةَ قُرَيْشٍ وَكَرِيمَتَهَا؟ " فَقَالَ: هَيْهَاتَ يَا ابْنَ أَخِي، ذَهَبَتِ الْمَكَارِمُ فَلَا مَكْرُمَةَ الْيَوْمَ إِلَّا الْإِسْلَامُ، قَالَ: فَقَالَ: " اشْهَدُوا أَنَّهَا فِي سَبِيلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَعْنِي الدَّرَاهِمَ ".
حافظ ثناء اللہ
مفضل بن غسان فرماتے ہیں کہ زبیری کہتے ہیں: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دارالندوہ کو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے ہاتھ ایک لاکھ کا بیچا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اے ابو خالد! آپ نے قریش کی بڑی عزت دار چیز بیچ دی ہے تو انہوں نے کہا: اے بھتیجے! جانے دیں، جاہلیت کی عزت ختم ہو گئی ہے۔ آج صرف اسلام کی بدولت عزت ہے، پھر انہوں نے کہا: گواہ رہو! یہ تمام درہم اللہ کے راستے میں صدقہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11182
حدیث نمبر: 11183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكَّةُ مُنَاخٌ، لَا يُبَاعُ رِبَاعُهَا، وَلَا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا " إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ضَعِيفٌ وَأَبُوهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَرُوِيَ عَنْهُ هَكَذَا، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مَرْفُوعًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ اونٹوں کی اقامت گاہ ہے، لہٰذا اس کی چاردیواری نہ بیچی جائے اور نہ یہاں کے گھر اجرت پر دیے جائیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11183
حدیث نمبر: 11184
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، وَأَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكَّةُ حَرَامٌ، وَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا، وَحَرَامٌ أَجْرُ بُيُوتِهَا " ⦗٥٨⦘ كَذَا رُوِيَ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ وَهْمٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ، قَالَهُ لِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ حرم ہے اور یہاں کا سبزہ (چارہ) بیچنا بھی حرام ہے اور یہاں کے گھر اجرت پر دینا بھی حرام ہیں۔“ اسی طرح اس حدیث کو مرفوعاً روایت کیا گیا ہے اور یہ وہم ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ یہ بات مجھے عبدالرحمن سلمیٰ نے امام دار قطنی سے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11184
حدیث نمبر: 11185
أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ الطَّبَرِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، ثنا أَبُو نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ كِرَاءَ بُيُوتِ مَكَّةَ إِنَّمَا يَأْكُلُ فِي بَطْنِهِ نَارًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ بِهَذَا اللَّفْظِ مَوْقُوفًا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11185
حدیث نمبر: 11186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ الْكِنَانِيِّ قَالَ: " كَانَتْ بُيُوتُ مَكَّةَ تُدْعَى السَّوَائِبَ، لَمْ تُبَعْ رِبَاعُهَا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبِي بَكْرٍ، وَلَا عُمَرَ، مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ أَخْبَارٌ عَنْ عَادَتِهِمُ الْكَرِيمَةِ فِي إسْكَانِهِمْ مَا اسْتَغْنَوْا عَنْهُ مِنْ بُيُوتِهِمْ، وَقَدْ أَخْبَرَ مَنْ كَانَ أَعْلَمَ بِشَأْنِ مَكَّةَ مِنْهُ عَنْ جَرَيَانِ الْإِرْثِ وَالْبَيْعِ فِيهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن نضلہ کنانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مکہ کے گھروں کو «سَوَائِبُ» کہتے تھے، رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں یہ بیچے نہیں جاتے تھے، جو شخص ضرورت مند ہوتا وہ ان میں سکونت اختیار کرتا اور جو شخص غنی ہوتا وہ دوسروں کو رہائش دیتا تھا۔ یہ منقطع ہے۔ اس حدیث میں اس اچھی عادت کا پتا چلتا ہے جو وہ لوگوں کو رہائش دیتے تھے اور یہ خبر اس نے دی ہے جو مکہ کے گھروں میں وراثت اور خرید و فروخت کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11186