السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11182
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: بَاعَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ دَارَ النَّدْوَةِ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: " يَا أَبَا خَالِدٍ، بِعْتَ مَأْثُرَةَ قُرَيْشٍ وَكَرِيمَتَهَا؟ " فَقَالَ: هَيْهَاتَ يَا ابْنَ أَخِي، ذَهَبَتِ الْمَكَارِمُ فَلَا مَكْرُمَةَ الْيَوْمَ إِلَّا الْإِسْلَامُ، قَالَ: فَقَالَ: " اشْهَدُوا أَنَّهَا فِي سَبِيلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَعْنِي الدَّرَاهِمَ ".حافظ ثناء اللہ
مفضل بن غسان فرماتے ہیں کہ زبیری کہتے ہیں: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دارالندوہ کو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے ہاتھ ایک لاکھ کا بیچا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اے ابو خالد! آپ نے قریش کی بڑی عزت دار چیز بیچ دی ہے تو انہوں نے کہا: اے بھتیجے! جانے دیں، جاہلیت کی عزت ختم ہو گئی ہے۔ آج صرف اسلام کی بدولت عزت ہے، پھر انہوں نے کہا: گواہ رہو! یہ تمام درہم اللہ کے راستے میں صدقہ ہیں۔