السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11184
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، وَأَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَكَّةُ حَرَامٌ، وَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا، وَحَرَامٌ أَجْرُ بُيُوتِهَا " ⦗٥٨⦘ كَذَا رُوِيَ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ وَهْمٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ، قَالَهُ لِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ حرم ہے اور یہاں کا سبزہ (چارہ) بیچنا بھی حرام ہے اور یہاں کے گھر اجرت پر دینا بھی حرام ہیں۔“ اسی طرح اس حدیث کو مرفوعاً روایت کیا گیا ہے اور یہ وہم ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ یہ بات مجھے عبدالرحمن سلمیٰ نے امام دار قطنی سے بیان کی ہے۔