السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11181
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ " يَعْتَدُّ بِمَكَّةَ مَا لَا يَعْتَدُّ بِهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، أَوْصَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِحُجْرَتِهَا، وَاشْتَرَى حُجْرَةَ سَوْدَةَ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جس طرح مکہ میں گھر تیار کرتے تھے، اس طرح کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنے کمرے کی وصیت کی تھی اور انہوں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ خریدا تھا۔