السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11180
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ⦗٥٧⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارٍ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخَ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ قَالَ: " اشْتَرَى نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ دَارَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بِأَرْبَعِمِائَةٍ، دَارُ السِّجْنِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنْ رَضِيَهَا وَإِنْ كَرِهَهَا، أَعْطَى نَافِعٌ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ أَرْبَعَمِائَةٍ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَهُوَ سِجْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ بِمَكَّةَ " وَيُذْكَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ كِرَاءِ بُيُوتِ مَكَّةَ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، الْكِرَاءُ مِثْلُ الشِّرَاءِ، قَدِ اشْتَرَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ دَارًا بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن فروخ فرماتے ہیں کہ نافع بن حارث رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے ایک قید خانہ خریدا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دینے کے لیے۔ اگر وہ اسے پسند کریں گے تو نافع رضی اللہ عنہ، صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو چار سو دیں گے۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ مکان آج بھی جیل کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا مکہ کے گھروں کو کرائے پر دیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ خریدنے میں کوئی حرج نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے چار ہزار درہم کا ایک گھر خریدا تھا۔