السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في بيع دور مكة وكرائها وجريان الإرث فيها باب: مکہ مکرمہ کے گھروں کی بیع، ان کو کرائے پر دینے اور ان میں وراثت جاری ہونے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قِصَّةِ فَتْحِ مَكَّةَ قَالَ: فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! قریش کے سردار ہلاک ہو گئے ہیں۔ آج کے بعد کوئی قریشی نہیں رہے گا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے اسے امن ملے گا اور جو شخص اپنا اسلحہ پھینک دے، اسے بھی امن ملے گا اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ بھی محفوظ رہے گا۔“ راوی کہتا ہے کہ لوگ ابوسفیان کے گھر داخل ہو گئے اور انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیے۔