السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في كراهية بيع المصاحف باب: قرآن مجید (مصاحف) کی بیع کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11064
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلًى لِسَعْدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ لِتِجَارَةٍ فِيهَا، فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنْ نَجْعَلَهُ مُتَّجَرًا، وَلَكِنْ مَا عَمِلْتَ بِيَدَيْكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَشِرَائِهَا: لَا بَأْسَ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
سعد کے آزاد کردہ غلام حضرت زیاد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم سے مصاحف کو بیچنے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے جواب دیا: اسے تجارت کا سامان نہیں بنانا چاہیے، سوائے اس کے جو تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ محنت کرے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابن وہب کہتے ہیں: مجھے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: مصاحف کو بیچنے اور انہیں خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔