کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قرآن مجید (مصاحف) کی بیع کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ زِيَادٍ، مَوْلًى لِسَعْدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ لِتِجَارَةٍ فِيهَا، فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنْ نَجْعَلَهُ مُتَّجَرًا، وَلَكِنْ مَا عَمِلْتَ بِيَدَيْكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَشِرَائِهَا: لَا بَأْسَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سعد کے آزاد کردہ غلام حضرت زیاد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم سے مصاحف کو بیچنے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے جواب دیا: اسے تجارت کا سامان نہیں بنانا چاہیے، سوائے اس کے جو تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ محنت کرے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابن وہب کہتے ہیں: مجھے امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: مصاحف کو بیچنے اور انہیں خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْمَصَاحِفُ لَا تُبَاعُ، كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِوَرَقَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَحْتَسِبُ فَيَكْتَبُ، ثُمَّ يَقُومُ آخَرُ فَيَكْتُبُ حَتَّى يُفْرَغَ مِنَ الْمُصْحَفِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مصاحف کو بیچا نہیں جاتا تھا، صورتحال اس طرح تھی کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی ورق لے کر آتا تو ایک آدمی اٹھ کر ثواب کی نیت سے اس پر لکھتا، پھر دوسرا اٹھ کر لکھتا، یہاں تک کہ مصحف مکمل ہو جاتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " اشْتَرِ الْمُصْحَفَ وَلَا تَبِعْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے امام مجاہد رحمہ اللہ سے کہا: مصحف کو خرید لیں لیکن اسے نہ بیچیں۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مِثْلَهُ مِنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَوَدِدْتُ أَنَّ الْأَيْدِيَ قُطِعَتْ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری خواہش ہے کہ جو لوگ مصحف شریف کو بیچتے ہیں ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ سَالِمٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِأَصْحَابِ الْمَصَاحِفِ فَيَقُولُ: " بِئْسَ التِّجَارَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مصحف شریف بیچنے والوں کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: تم سب سے برے تاجر ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ⦗٢٨⦘ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ بَيْعَ الْمَصَاحِفِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ مصاحف کو بیچنا ناپسند کرتے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ " أَنَّهُ كَرِهَ شِرَاءَ الْمَصَاحِفِ وَبَيْعَهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسُوا، يَعْنِي بَعْضَ الْعِرَاقِيِّينَ، يَقُولُونَ بِهَذَا، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا بِبَيْعِهَا وَشِرَائِهَا، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا يَرَى بِشِرَائِهَا بَأْسًا، وَنَحْنُ نَكْرَهُ بَيْعَهَا قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الْكَرَاهَةُ عَلَى وَجْهِ التَّنْزِيهِ تَعْظِيمًا لِلْمُصْحَفِ عَنْ أَنْ يُبْتَذَلَ بِالْبَيْعِ أَوْ يُجْعَلَ مُتَّجَرًا. وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: اشْتَرِ الْمُصْحَفَ وَلَا تَبِعْهُ، إِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ، يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ بَيْعِهِ مَعَ الْكَرَاهِيَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ مصاحف کی خرید و فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض عراقی اس کے قائل نہیں، وہ مصاحف کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگ مصحف کے خریدنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور ہم اس کے بیچنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ کراہت تنزیہی ہے، مصحف شریف کی تعظیم کے لیے کہ کہیں بیچ کر اس کی بے قدری نہ ہو یا اسے سامانِ تجارت نہ بنا لیا جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی رخصت دی تھی، اور اس کی سند ضعیف ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”مصحف خرید لو اور اسے نہ بیچو“ اگر ان سے صحیح ثابت ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصحف کو بیچنا کراہت کے ساتھ جائز ہے، واللہ اعلم۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَفْصٍ التَّوْضِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " رُخِّصَ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علقمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: مصحف کو بیچنا جائز ہے، ابو احمد کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے صرف علی بن عباس سے اسی سند کے ساتھ لکھی ہے، شیخ فرماتے ہیں: اس کی سند ضعیف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سَعِيدٌ قَالَ: كَلَّمْتُ مَطَرًا الْوَرَّاقَ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ، فَقَالَ: " أَتَنْهَوْنِي عَنْ بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَقَدْ كَانَ حَبْرَا هَذِهِ الْأُمَّةِ، أَوْ قَالَ: فَقِيهَا هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا يَرَيَانِ بِهِ بَأْسًا: الْحَسَنُ وَالشَّعْبِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے مطر ورّاق رحمہ اللہ سے مصحف کی بیع کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا: کیا تم مجھے مصحف کی بیع سے روکتے ہو؟ حالانکہ اس امت کے بڑے عالم یا بڑے فقیہ یعنی حسن رحمہ اللہ اور شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَاشْتِرَائِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یونس، امام حسن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مصاحف کو بیچنے اور خریدنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔