السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيع فضل الماء باب: ضرورت سے زائد پانی فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11063
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ فِي الْقِرَبِ فَقَالَ: " هَذَا يَنْزِعُهُ وَيَحْمِلُهُ لَا بَأْسَ بِهِ، لَيْسَ كَفَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مشکیزوں میں پانی بیچنا کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ صورت مختلف ہے، اس میں تو آدمی پانی کھینچتا ہے اور اسے اٹھاتا ہے، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ پانی اس زائد پانی کی طرح نہیں ہے جو زمین میں ہی خشک ہو جاتا ہے۔