السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في كراهية بيع المصاحف باب: قرآن مجید (مصاحف) کی بیع کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11065
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْمَصَاحِفُ لَا تُبَاعُ، كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِوَرَقَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَحْتَسِبُ فَيَكْتَبُ، ثُمَّ يَقُومُ آخَرُ فَيَكْتُبُ حَتَّى يُفْرَغَ مِنَ الْمُصْحَفِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مصاحف کو بیچا نہیں جاتا تھا، صورتحال اس طرح تھی کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی ورق لے کر آتا تو ایک آدمی اٹھ کر ثواب کی نیت سے اس پر لکھتا، پھر دوسرا اٹھ کر لکھتا، یہاں تک کہ مصحف مکمل ہو جاتا۔