السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الولي يأكل من مال اليتيم مكان قيامه عليه بالمعروف إذا كان فقيرا باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الصَّفَّارِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي أَمْوَالَ يَتَامَى، وَهُوَ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَسْتَ تَبْغِي ضَالَّتَهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " أَلَسْتَ تَهْنَأُ جَرْبَاهَا؟ " قَالَ: بَلَى، " أَلَسْتَ تَلُوطُ حِيَاضَهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " أَلَسْتَ تَفْرُطُ عَلَيْهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَأَصِبْ مِنْ رِسْلِهَا " يَعْنِي مِنْ لَبَنِهَا.قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میرے پاس یتیم کا مال ہے اور پوچھنے لگا: کیا میں اس میں سے لے سکتا ہوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا تم اس کی گمشدہ چیز تلاش نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے پوچھا: کیا تم اس خارش زدہ اونٹ کا علاج نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے پھر پوچھا: کیا تو اس کے حوض کا لیپ نہیں کرتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر سوال کیا: کیا تو اس کے پانی پینے کے دن آگے جا کر اس کے لیے پانی کا انتظام نہیں کرتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو پھر تو اس کا دودھ بھی لے سکتا ہے۔