السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الولي يأكل من مال اليتيم مكان قيامه عليه بالمعروف إذا كان فقيرا باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10994
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ: " مِمَّا كُنْتَ مِنْهُ ضَارِبًا وَلَدَكَ "، قَالَ: أَفَأُصِيبُ مِنْ مَالِهِ؟ قَالَ: " غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ " هَذَا مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنی اولاد کو مار سکتے ہو۔“ اس آدمی نے پھر کہا: کیا میں اس کے مال میں سے لے سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس حالت میں لے سکتا ہے کہ تو اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے والا نہ ہو اور نہ اپنے مال کو اس کے ذریعے بچانے والا ہو۔“