حدیث نمبر: 10996
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٧⦘ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، أَفَأَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ؟ قَالَ: " إِنْ كُنْتَ تَرُدُّ نَادَّتَهَا، وَتَلُوطُ حَوْضَهَا، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلَا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ ".
حافظ ثناء اللہ

قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ: میرے تحت ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے دودھ میں سے پی سکتا ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تو اس کے گمشدہ اونٹ کو تلاش کرتا ہے اور اس کے حوض کو لیپ کرتا ہے اور اس کی خارش کا علاج کرتا ہے تو تو دودھ بھی پی سکتا ہے، مگر نسل کو نقصان نہ پہنچے اور نہ دودھ لینے میں حد سے آگے بڑھنا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10996
درجۂ حدیث محدثین: موطا امام مالك رقم 937، ومصنف سعيد بن منصور رقم 571
تخریج حدیث «موطا امام مالك رقم 937، ومصنف سعيد بن منصور رقم 571»