کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ ⦗٦⦘ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] قَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا كَانَ فَقِيرًا أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ مَكَانَ قِيَامِهِ عَلَيْهِ بِالْمَعْرُوفِ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور جو شخص دولت مند ہو تو وہ پرہیز کرے اور جو شخص غریب ہو وہ معروف طریقے سے کھا سکتا ہے“ کے بارے میں فرماتی ہیں: یہ آیت یتیم کے مال کے سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جبکہ وہ فقیر اور غریب ہو تو وہ معروف طریقے سے سرپرست ہونے کی حیثیت سے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10992
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ، إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ آیت یتیم کے مال کے سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو یتیم کے مال کی نگرانی کرتا ہے اور اسے درست کرتا ہے کہ جب وہ تنگ دست اور محتاج ہو تو معروف طریقے سے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10993
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ فَقَالَ: " مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا وَلَدَكَ، غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا ". كَذَا رَوَاهُ، وَالْمَحْفُوظُ مَا:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنے بچوں کو مار سکتے ہو، اس بنا پر یتیم کو بھی مار سکتے ہو، اپنے مال کو یتیم کے مال سے نہ بچانا اور نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بڑھانا۔“
حدیث نمبر: 10994
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ: " مِمَّا كُنْتَ مِنْهُ ضَارِبًا وَلَدَكَ "، قَالَ: أَفَأُصِيبُ مِنْ مَالِهِ؟ قَالَ: " غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ " هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنی اولاد کو مار سکتے ہو۔“ اس آدمی نے پھر کہا: کیا میں اس کے مال میں سے لے سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس حالت میں لے سکتا ہے کہ تو اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے والا نہ ہو اور نہ اپنے مال کو اس کے ذریعے بچانے والا ہو۔“
حدیث نمبر: 10995
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الصَّفَّارِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي أَمْوَالَ يَتَامَى، وَهُوَ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَلَسْتَ تَبْغِي ضَالَّتَهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " أَلَسْتَ تَهْنَأُ جَرْبَاهَا؟ " قَالَ: بَلَى، " أَلَسْتَ تَلُوطُ حِيَاضَهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " أَلَسْتَ تَفْرُطُ عَلَيْهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَأَصِبْ مِنْ رِسْلِهَا " يَعْنِي مِنْ لَبَنِهَا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میرے پاس یتیم کا مال ہے اور پوچھنے لگا: کیا میں اس میں سے لے سکتا ہوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا تم اس کی گمشدہ چیز تلاش کرسکتے ہو؟ کیا تم اس خارش زدہ اونٹ کا علاج نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے پھر پوچھا: کیا تو اس کے حوض کا لیپ نہیں کرتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر سوال کیا: کیا تو اس کے وارد ہونے کے دن خوش نہیں ہوتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، خوش ہوتا ہوں، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو پھر تو اس کا دودھ بھی لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10996
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٧⦘ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، أَفَأَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ؟ قَالَ: " إِنْ كُنْتَ تَرُدُّ نَادَّتَهَا، وَتَلُوطُ حَوْضَهَا، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلَا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ: میرے تحت ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے دودھ میں سے پی سکتا ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تو اس کے گمشدہ اونٹ کو تلاش کرتا ہے اور اس کے حوض کو لیپ کرتا ہے اور اس کی خارش کا علاج کرتا ہے تو تو دودھ بھی پی سکتا ہے، مگر نسل کو نقصان نہ پہنچے اور نہ دودھ لینے میں حد سے آگے بڑھنا۔
حدیث نمبر: 10997
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " يَضَعُ الْوَصِيُّ يَدَهُ مَعَ أَيْدِيهِمْ، وَلَا يَلْبَسُ الْعِمَامَةَ فَمَا فَوْقَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سرپرست یتیموں کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ رکھے (یعنی معروف اور ضرورت کے مطابق ان کے مال سے لے) اور امامہ وغیرہ نہ باندھے۔
حدیث نمبر: 10998
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ " يَأْكُلُ مَالَ الْيَتِيمِ بِأَصَابِعِهِ، لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سرپرست یتیم کے مال سے انگلیوں کے ساتھ کھا سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں (یعنی اپنے مال میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں، صرف بھوک مٹانے کے لیے لے سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 10999
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] کے بارے میں فرماتے ہیں:
حدیث نمبر: 11000
قَالَ: " إِنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَضْرِبْ بِيَدِهِ مَعَ أَيْدِيهِمْ فَلْيَأْكُلْ، وَلَا يَكْتَسِي عِمَامَةً فَمَا فَوْقَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
”اگر وہ فقیر ہو تو ان کے ہاتھوں کے ساتھ اپنا ہاتھ رکھے اور کھائے لیکن ان کے مال سے پگڑی وغیرہ نہ پہنے۔“