السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الولي يأكل من مال اليتيم مكان قيامه عليه بالمعروف إذا كان فقيرا باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 10993
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ فَقَالَ: " مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا وَلَدَكَ، غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا ". كَذَا رَوَاهُ، وَالْمَحْفُوظُ مَا:.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنے بچوں کو مار سکتے ہو، اس بنا پر یتیم کو بھی مار سکتے ہو، اپنے مال کو یتیم کے مال سے نہ بچانا اور نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بڑھانا۔“