السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10935
وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، قَالَ الْمَعْمَرِيُّ: قَالَ هِشَامٌ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيُّ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا وَهِمَ، وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، ⦗٥٧٤⦘ ورَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ فَوَقَفَاهُ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عمار نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے عتبہ سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کیا ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔ ہشام کہتے ہیں: اس حدیث میں (راوی کا نام) یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی آیا ہے، اور میرے خیال میں یہ وہم ہی ہے، یہ یحییٰ بن یزید ہنائی کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
شعبہ اور محمد بن دینار نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔