السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا، فَأُهْدِيَ إِلَيْهِ طَبَقٌ فَلَا يَقْبَلْهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى دَابَّةٍ فَلَا يَرْكَبْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " كَذَا قَالَ..حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اے ابو ہمزہ! ایک آدمی قرض لیتا ہے، پھر وہ قرض دینے والے کو ہدیہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں قرض دیا جائے، پھر اس کے عوض کوئی تحفہ ملے یا سواری ملے تو اسے قبول نہ کرے الا یہ کہ ان کا آپس میں پہلے سے کوئی تعلق ہو۔“