حدیث نمبر: 10931
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: ⦗٥٧٣⦘ كَانَ لَنَا جَارٌ سَمَّاكٌ عَلَيْهِ لِرَجُلٍ خَمْسُونَ دِرْهَمًا، فَكَانَ يُهْدِي إِلَيْهِ السَّمَكَ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " قَاصِّهِ بِمَا أَهْدَى إِلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سالم بن ابی جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ مچھلی فروش (سماک) تھا، اس کے ذمہ ۵۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو مچھلی ہدیہ میں دیتا رہا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور سوال کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کا حساب کر جو اس نے ہدیہ دیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10931
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»