السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، فَجَعَلَ يُهْدِي إِلَيْهِ وَجَعَلَ كُلَّمَا أَهْدَى إِلَيْهِ هَدِيَّةً بَاعَهَا حَتَّى بَلَغَ ثَمَنُهَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَا تَأْخُذْ مِنْهُ إِلَّا سَبْعَةَ دَرَاهِمَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا دوسرے کے ذمہ ۲۰ درہم قرض تھا، وہ اس کو تحفہ دیتا، وہ جب بھی تحفہ دیتا وہ اس کو فروخت کر دیتا، یہاں تک کہ اس کی قیمت ۱۳ درہم تک پہنچ گئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے سات درہم وصول کر لو۔