السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَخَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْتَقْرِضَ أَفْقَرَ الْمُقْرِضَ ظَهْرَ دَابَّتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِ دَابَّتِهِ فَهُوَ رِبًا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَذْهَبُ إِلَى أَنَّهُ قَرْضٌ جَرَّ مَنْفَعَةً، قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا أَقْرَضَ رَجُلًا دَرَاهِمَ وَشَرَطَ عَلَيْهِ ظَهْرَ فَرَسِهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ مِنْ ظَهْرِهِ فَهُوَ رِبًا ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان سے سوال ہوا کہ ایک آدمی نے دوسرے سے چند درہم بطور قرض وصول کیے، پھر قرض دینے والے کو مقروض کی سواری کی ضرورت پڑ گئی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا ہے، وہ سود ہے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا قرض جو نفع کا سبب ہے، وہ سود ہے۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے چند درہم قرض لیے اور اس کے گھوڑے پر سواری کی شرط لگائی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا، تو انہوں نے فرمایا: جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا، وہ سود ہے۔