السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10928
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي كُلْثُومُ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فَآتِي الْعِرَاقَ فَأُقْرِضُ، قَالَ: " إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا كَثِيرٌ فَاشٍ فَإِذَا أَقْرَضْتَ رَجُلًا فَأَهْدَى إِلَيْكَ هَدِيَّةً، فَخُذْ قَرْضَكَ وَارْدُدْ إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ ".حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومنذر! میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں، میں نے عراق میں آکر قرض لیا۔ انہوں نے کہا: آپ سودی علاقے میں ہیں، جہاں سود عام ہوتا ہے، جب آپ کسی کو قرض دیں اور وہ آپ کو ہدیہ دے تو اپنا قرض واپس لو اور ہدیہ واپس کر دو۔