السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كل قرض جر منفعة فهو ربا باب: ”ہر وہ قرض جو کسی نفع کا باعث بنے وہ سود ہے“۔
حدیث نمبر: 10927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تَجِيءُ إِلَى الْبَيْتِ حَتَّى أُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا؟ " فَذَهَبْنَا فَأَطْعَمَنَا سَوِيقًا وَتَمْرًا ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِيهَا فَاشٍ فَإِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حَبَلَةً مِنْ عَلَفٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ حَبَلَةً مِنْ تُبْنٍ فَلَا تَقْبَلْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الرِّبَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ. وَرُوِّينَا عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قِصَّةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْقَرْضِ وَالْهَدِيَّةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آکر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: کیا آپ گھر نہیں آئیں گے کہ میں آپ کو ستو اور کھجور کھلاؤں؟ ہم گئے تو انہوں نے ہمیں ستو اور کھجوریں کھلائیں، پھر فرمایا: آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں سود عام ہے، جب کسی آدمی کے ذمہ قرض ہو اور وہ آپ کو رسی میں باندھی خشک گھاس یا جَو کا گٹھا یا بھوسہ ہدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کرنا، کیونکہ یہ سود ہے۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس کے مشابہ قصہ بیان کیا ہے جو قرض اور ہدیہ کے مشابہ ہے۔