السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، أنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ " فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا " فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلِيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى ".عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے: ”پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔“ جب آپ ﷺ واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ ﷺ تشریف لائے، کھانا لایا گیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی، پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ کھانا) قیدیوں کو کھلا دو۔“