السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ جَوَّابٍ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا خَبَثًا، أَوْ حَرَامًا وَأَنَّهُ يَدْعُونِي، فَأُحْرَجُ أَنْ آتِيَهُ وَأَتَحَرَّجُ أَنْ لَا آتِيَهُ، فَقَالَ: " ائْتِهِ، أَوْ أَوْجِبْهُ فَإِنَّمَا وِزْرُهُ عَلَيْهِ " قَالَ الشَّيْخُ: جَوَّابٌ التَّيْمِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهَذَا إِذَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّ الَّذِي قُدِّمَ إِلَيْهِ حَرَامٌ فَإِذَا عَلِمَ حَرَامًا لَمْ يَأْكُلْهُ، كَمَا لَمْ يَأْكُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي قُدِّمَتْ إِلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے مجھے تو اس کی کمائی حرام یا خبیث کا علم ہی ہے، وہ مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے پاس کھانا کھاؤں لیکن میں ممنوع خیال کرتا ہوں اس کے پاس آنے کو اور میں پریشانی سے بچنا چاہتا ہوں کہ میں نہ آؤں۔ انہوں نے کہا: تم اس کی دعوت قبول کرو، اس کا گناہ اس پر ہے۔
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ ﷺ نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔