السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10826
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، ثنا ⦗٥٤٨⦘ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ شُرَحْبِيلَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدْ أُشْرِكَ فِي عَارِهَا وَإثْمِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جس نے چوری والی بکری خریدی اور وہ جانتا ہے کہ یہ چوری کی ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔“
(ب) مصعب بن محمد بن شرحبیل اہل مدینہ کے ایک شیخ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چوری کی بکری خریدی اور وہ جانتا ہے کہ چوری کی ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں شریک ہے۔“